بھٹکل ،13 / اگست (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے شہری علاقے، جالی پٹن پنچایت، شیرالی گرام پنچایت، ماوین کوروا گرام پنچایت علاقے میں پینے کا پانی سبراہی کا واحد ذریعہ کڈوین کٹّا ڈیم ہے جہاں برسہا برس سے صفائی نہ ہونے کی وجہ سے کچرے اور مٹی کا ڈھیر اس قدر جمع ہوگیا ہے کہ اب وہاں بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ رکھنے کی گنجائش کم ہوگئی ہے ۔
مانسون کے بعد پورے سال تک اس آبی ذخیرے سے پانی سپلائی کرنے کے لئے یہاں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے گرمی کے دنوں میں پانی کی قلت کی شکایت ہر سال پیدا ہوتی ہے ۔ ہر سال مئی کے مہینے میں کڈوین کٹا آبی ذخیرے کے سوکھنے اور وہاں جمع شدہ مٹی کے ڈھیر نمایاں ہونے کی صورت حال پیدا ہونا اور اس کے بعد پانی سپلائی روزانہ کے بجائے ہفتے دو اور تین دن تک محدود کرنا معمول کی بات ہوگئی ہے ۔
حالانکہ اس ڈیم کے اندر سال بھر کی ضرورت کے مطابق پانی کا ذخیرہ رکھنے کا اہتمام کرنا متعلقہ محکمہ کے افسران اور عوامی منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے ۔ لیکن ہر سال ڈیم کے اندر پانی سوکھنے اور گھروں تک پانی سپلائی کرنے میں پیش آ رہی دشواری کو اگلے سال کس طرح دور کرنا ہے اور اس سلسلے میں کیا اقدامات کرنے ہیں اس کے بارے میں افسران یا عوامی منتخب نمائندے نہ غور کرتے ہیں اور نہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں ۔
ایک اندازے کے مطابق کڈوین کٹا ڈیم میں اس وقت چالیس فٹ کے قریب مٹی اور کچرا جمع ہوگیا ہے ۔ مانسون کے دوران پانی بڑی مقدار میں اس ڈیم کی طرف بہہ کر آتا ہے مگر ذخیرہ کی استعداد زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے اضافی پانی ندی میں بہہ کر بحیرہ عرب سے سے جا ملتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گرمی کے موسم میں نلوں کے ذریعے پانی سپلائی متاثر ہوتی ہے ۔
اس مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ ڈیم سے کچرا اور مٹی نکال کر اسے گہرا کرنے کے علاوہ ڈیم کی اونچائی میں تھوڑا سا اضافہ کیا جائے ۔ اگر اس مرتبہ ایسا کیا گیا تو آئندہ کم از کم دس سال تک پھر یہاں پانی کی قلت کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا ۔
اس سلسلے میں محکمہ چھوٹی آب پاشی، بھٹکل ٹی ایم سی اور جالی پٹن پنچایت وغیرہ کے ذمہ داروں کو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور ایک لائحہ عمل ترتیب دے کر اس پر کارروائی کی جانی چاہیے ۔